مسئلہ خلافت
مولانا ابوالکلام آزاد مولانا ابوالکلام آزاد ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ تحریر و تقریر دونوں پر قدرت رکھتے تھے۔خطابت ، نثر نگاری، صحافت، سیاست ، دینی علوم اور ادب کے حوالوں سے انہیں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ انشا پردازی ، خطابت ، صحافت اور تحریر کی شگفتگی کے اعتبار سے انہیں ہمیشہ فضلیت حاصل رہے گی۔ مسئلہ خلافت ان کی ایک نادر تصنیف ہے ۔خلافت کا مسئلہ عالم اسلام خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ترکی کی خلافت کے خاتمے پر تمام عالم اسلام میں احتجاج اور ماتم کیا گیا تھا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے خلافت اسلامیہ کی بحالی کے لیے ایک تحریک بھی چلائی تھی جو کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی لیکن مسئلہ خلافت آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں ایک کانٹا بن کر چبھ رہا ہے۔ اس کتاب کے پہلے بھی متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں لیکن مرتب کے مطابق یہ اصلی او رقابل اعتبار نسخہ ہے۔ اب تک اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ …٭٭٭…
اسلام میں غلامی کی حقیقت
مولانا سعید احمد اکبر آبادی
مولانا سعید احمد اکبر آبادی کا اُچھوتے موضوع پر ایک جامع اور تحقیقی شاہکار ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں غلامی کی حقیقت اور اس کے اخلاقی، نفسیاتی اور اقتصادی پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے نیز بتایا گیا ہے کہ دین میں غلامی کا رواج کب اور کس طرح ہوا۔ اور ظہورِ اسلام سے پہلے کن کن قوموں میں یہ رواج پایا جاتا تھا۔
دوسرے حصے میں بتایا گیا ہے کہ غلامی کے ضمن میں اسلام کا نقطۂ نظر کیا ہے؟ اس نے غلامی کے غلط رواج کو مٹانے کے لیے کیسا پُرحکمت طریقِ عمل اختیار کیا اور اس رواج کی خفیف و ضعیف نوعیت اسلام میں باقی رہی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟
…٭٭٭… کی ۱۸۵۷کی پہلی جنگِ آزادی
محمد شفیع
مولانا محمد شفیع نے ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے واقعات کو نو ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ ابتدائی چار ابواب میں انگریزوں کی آمد کے بعد جنگِ پلاسی، تحریکِ جہاد سیّد احمد شہید بریلوی، تحریکِ شاہ ولی اللہ اور ہنگامہ۵۷ء سے ذرا پہلے کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پانچویں باب میں دس مئی کا دھماکہ ہوا، چھٹے میں بہادر شاہ ظفر گرفتار ہوئے، دِلّی پر انگریزوں کا قبضہ، ساتویں میں دوسرے شہروں میں مجاہدین کے معرکوں کی داستان آٹھویں میں ناکامی کی وجوہ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ نویں باب میں مشاہیر کے حالات ہیں اور خوبصورت خاکے ہیں۔
…٭٭٭…
اصحابِ کہف
مولانا ابو الکلام آزاد
مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر ہی کے نہیں بلکہ دُنیائے اسلام کے پہلے مفسر ہیں جنھوں نے ان دیومالائی شخصیتوں کو تاریخی حقیقت سے ثابت کیا ہے۔ یہ دراصل سورۂ کہف کی تفسیر ہے۔ اپنی تفسیر ’’ترجمان القرآن‘‘ لکھتے وقت جب یہ شخصیتیں سامنے آئیں تو اُنھوں نے عربی، فارسی، انگریزی اور فرانسیسی زبان کی تاریخی کتب اور دوسرے مآخذ سے استفادہ کرتے ہوئے اصل حقیقت کی نقاب کشائی کی۔ مولانا آزاد لکھتے ہیں: کہ ’’اصحابِ کہف‘‘ خدا پرست تھے۔ اُن کی مخالفت میں پوری قوم کمربستہ ہوگئی۔ اُن سے کہا گیا کہ اگر وہ خدا پرستی سے باز نہ آئے تو سنگسار کردیے جائیں گے۔ یہ حالت دیکھ کر اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ آبادی سے منہ موڑیں اور غار میں معتکف ہوکر ذکرِ الٰہی میں مشغول ہوجائیں۔ چنانچہ ایک غار میں مقیم ہوگئے۔ ان کا ایک وفادار کتا تھا، وہ بھی اُن کے ساتھ غار میں چلا گیا۔
مولانا آزاد نے اپنے اس تاریخی، تحقیقی مجموعے میں مقام اور اس کے غار تک کے فوٹوگراف اپنی تحقیق میں شامل کیے ہیں۔
نیز قرآنِ مجید میں جس شخصیت ’’ذوالقرنین‘‘ (دو سینگوں والا) کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ کون ہے؟ مفسرین نے اس مغالطے میں تخیل و قیاس کے گھوڑے دوڑائے لیکن مولانا آزاد نے ناقابلِ تردید ثبوتوں کے ساتھ ثابت کردیا کہ وہ پارس کا ایک نوجوان گورش نامی تھا۔
یاجوج ماجوج کون سی قوم تھی؟ اس کے بارے میں بھی مفسرین و مستشرقین نے ماضی کی تاریخ کھنگھالنے کی بجائے دماغی ورزشوں پر زور دیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے تحقیق و جستجو کا حق ادا کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ وہ وحشی مگر طاقتور قبائل ہیں جن کا سیلاب قبل از تاریخ عہد سے لے کر نویں صدی مسیح تک برابر مغرب کی طرف اُمڈتا رہا جن کے مشرقی حملوں کی روک تھام کے لیے چینیوں کو سیکڑوں میل لمبی دیوار بنانی پڑی۔
…٭٭٭…
بہارِ شباب
حکیم محمود احمد خان
یہ کتاب مسیح الملک حکیم اجمل خان مرحوم کے والدِ گرامی حکیم محمود احمد خان کی تالیف پر مبنی مواد پر مشتمل ہے۔ اصل کتاب اب سے سوبرس پہلے فارسی میں تحریر کی گئی تھی اس کا اُردو ترجمہ کیا گیا ہے جو بہت خوب ہے۔ یہ نوجوانوں کے پوشیدہ جنسی مسائل اور رہنمائی کے لیے نہایت مفید ہے۔ حکما اور طب کے طلبہ اور عام اطباء بھی اس سے کماحقہ مستفید ہوسکتے ہیں۔اس کتاب کی اشاعت کا مقصد جنسی تقاضوں کی پُرپیچ راہوں اور بھول بھلیوں میں نوجوان طبقہ کی درست سمت میں راہنمائی ہے۔
…٭٭٭…
اسلام میں آزادی کا تصور
مولانا ابوالکلام آزاد
مولانا آزاد ایک سدا بہار مصنف ہیں ان کے قلم سے جو بھی تحریر نکلی اَمر ہوگئی۔ یہ کتاب مولانا کے اُن مقالات کا مجموعہ ہے جو ’’الہلال‘‘ کے دورِ اوّل میں شائع ہوتے تھے۔ ان مقالات میں قاری کے لیے اسلام اور جمہوریت، مساواتِ اسلامی، نظامِ جمہوریت، خلفاء کا طرزِ عمل، خلیفۂ اسلام کے اختیارات، قوموں کے زوال کے اسباب، اسلام کا پیغام، جہاد اور اس کی تفصیل پر خیال افروز بحث پائی جاتی ہے۔ مولانا کے نزدیک غلامی خدا کے قانون اور اس کی مرضی کے خلاف ہے۔ مولانا اپنے اس عقیدے کا اعلان یوں کرتے ہیں :
’’آزاد رہنا ہر فرد اور قوم کا پیدائشی حق ہے۔ محکموی اور غلامی کے لیے کیسے ہی خوشنما نام کیوں نہ رکھ لیے جائیں لیکن وہ غلامی ہی ہے اور خدا کی مرضی اور اس کے قانون کے خلاف ہے۔‘‘
…٭٭٭…
دیوانِ غالب۔ مع فرہنگ
مرزا اسداللہ خاں غالب
دیوانِ غالب کے یوں تو اب تک بے شمار ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ نقادِ فن اور تحقیق کاروں نے مختلف طریقوں سے اس کی شرحیں بھی لکھی ہیں لیکن غالب کی شاعری کو صحیح تلفظ اور املا کے ساتھ پڑھنے کی جو ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی اُس کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ ایڈیشن شائع کیا گیا ہے جو اسے دوسرے ایڈیشنوں سے ممتاز کرتا ہے اس ایڈیشن میں اوقاف بندی اور درست شعرخوانی کا خاص خیال رکھا گیا ہے جن الفاظ کو ملا کر پڑھنا چاہیے انھیں ’’واوین‘‘ میں دیا گیا ہے اور ضروری اعراب بھی لگائے گئے ہیں نیز ہر غزل کے بعد اس کی جامع فرہنگ بھی مہیا کی گی ہے۔ اس محنت طلب اہتمام نے اس ایڈیشن کو ایک خاص شناخت اور تشخص دیا ہے۔ یہ ایڈیشن، طالب علموں اور غالب کے پرستاروں کے لیے ایک خاصہ کی چیز ہے۔
…٭٭٭…
گھریلو اور آزمودہ نسخوں کا انسائیکلوپیڈیا
سیّد امتیاز علی تاج
گھریلو آزمودہ نسخوں کا انسائیکلوپیڈیا برسوں سے آزمودہ تجربات پر مبنی ہے۔ مصنف نے تمام اہم مفید نسخے حاصل کرکے انھیں کتابی شکل دی ہے۔ تاکہ ان انمول جواہرات کو یکجا کرکے آنے والی نسلوں کے لیے کام میں لایا جاسکے۔
یہ معلومات کا خزانہ ہے جس سے قارئین کو گھریلو ٹوٹکوں سے متعلق راہنمائی حاصل ہوگی ہے اور عام خواتین گھر بیٹھے کم خرچ بالانشیں ٹوٹکے استعمال کرکے اپنی معلومات اور ہنرمندی میں بے حد اضافہ کرکے داد و تحسین وصول کر سکتی ہیں۔
…٭٭٭…
اسلامی مملکت کا فلاحی تصور
مولانا سعید الرحمن علوی
اسلامی حوالے سے مختلف موضوعات پر لکھے گئے یہ مقالات اپنی ندرت، نفسِ مضامین اور بے ساختگی کے حوالے سے اعلیٰ پائے کے مقالہ جات ہیں۔ جن میں مصنف نے اسلامی مملکت کے فلاحی تصور کے حوالے سے علمی و عقلی دلائل سے سیرحاصل بحث کی ہے۔ مولانا نے ان مقالات میں اس نکتے پر بھی طویل بحث کی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں انگریز کے فرسودہ نظام کے رائج ہونے کے بعد اور انگریز کے یہاں سے چلے جانے کے بعد وہی نظام رائج ہونے سے کیا کیا برائیاں پیدا ہوئیں اور کون سے بگاڑ پیدا ہوئے۔ جس سے امیر اور غریب کے درمیان فاصلے بڑھے۔ مصنف نے جہاں ان تحقیقی جائزوں کے ذریعے سودی اور بنکاری نظام کے تاریک پہلوئوں کو اُجاگر کیا ہے وہیں اسلامی حوالوں سے یہ بات بھی حکمران طبقے کی آنکھوں کا سرمہ بنانے کی سعی کی ہے کہ اسلام کے ترقی پسند اُصولوں اور نظامِ مملکت سے ہی اسلامی مملکت کے فلاحی تصور کو عملی جامہ پہنایا جاسکتا ہے۔ …٭٭٭…
مشرق کا سوئزر لینڈ
محمد شاہین پرویش
اس کتاب میں سوات کی آبشاریں، جھیلیں، دریا، پہاڑ، صحت بخش چشمے، مزارات، محلات اور مشہور تفریحی مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں اس کتاب سے ان علاقوں کے تاریخی، تہذیبی، اخلاقی اور سیاسی رویوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے نیزسیاحوں کے لیے راہنمائی اور معلومات پر مبنی یہ ایک نہایت مفید اور کارآمد گائیڈ ہے۔
…٭٭٭…
کافرستان کے رسم و رواج
محمد پرویش شاہین
کافرستان نہ صرف اپنے ملک کے اندر بلکہ ملک سے باہر اپنے عجیب و غریب رسم و رواج کے لیے مشہور ہے، یہاں کی دوشیزائوں کا قدرتی حسن اپنی مثال آپ ہے کافرستان کی وادیاں امبورہ، تریر اور بمبوریت بھی اپنے لافانی حسن کی وجہ سے بے پناہ شہرت رکھتی ہیں۔ اس کتاب میں کافرستان کے رسم و رواج کا دلچسپ انداز میں جائزہ لیا گیا ہے اس کتاب میں سیاحوں کو مکمل راہنمائی اور جامع معلومات فراہم کرنے کے لیے مصنف نے خود کافرستان کے چپہ چپہ کی سیر کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کی ہر سطر کے ساتھ ساتھ قاری کی دلچسپی بڑھتی جاتی ہے۔ …٭٭٭…
سوات کوہستان
محمد پرویش شاہین
اس کتاب میں سوات کوہستان کی حسین و جمیل وادیوں کے بارے میں دلچسپ اور مفید معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ سیاحوں کے لیے یہ کتاب گرانقدر معلومات کا خزینہ ہے۔ اس میں سیاحتی مقامات کے فاصلوں اور آمدورفت کے بارے میں بھی بیش بہا معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سیاحوں کی معلومات اور راہنمائی کے لیے انتہائی کارآمد و مفید ہے۔
…٭٭٭…
وادیٔ کاغان
منصف خاں سحاب
وادیٔ کاغان کی تاریخ، لوگ، ثقافت اور سیاحت کے بارے میں یہ کتاب قارئین کو جامع معلومات فراہم کرتی ہے۔ عموماً کتابوں میں صرف وادیٔ کاغان کا قدرتی حسن بیان کیا جاتا ہے لیکن اصل مآخذ پیش نہیں کیا جاتا جس سے تشنگی باقی رہ جاتی ہے۔ اس کتاب میں کاغان کے رسم و رواج کے علاوہ تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی پہلوئوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وادی میں پائے جانے والے پھل، پھول، جانور، پرندے، پودے، معدنیات، فصلوں اور جڑی بوٹیوں کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جو باٹنی کے طلبہ کے لیے انتہائی مفیدو کارآمد ہے۔ نیز سیّد احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی شہادت کو مستند تاریخی حوالوں سے زینتِ قرطاس بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب تفریحی مقامات کی سیر کے شائقین کے لیے بھی بہترین گائیڈ کا درجہ رکھتی ہے۔
…٭٭٭…
حقیقتِ صلوٰۃ
مولانا ابوالکلام آزاد
حقیقتِ صلوٰۃ ان چار ابواب میں منقسم ہے۔ ٭غرض و غایت ٭فلسفہ حقیقتِ نماز ٭قصر بحالتِ امن و راحت ٭رُوحِ نماز اور اس کا فقدان
مولانا نے ان مضامین میں نماز کی غایت بیان کرتے ہوئے بعض غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر کیا صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد پانچ نمازوں میں گنتی کے اعتبار سے درمیانی نماز ہے؟ مولانا کے نزدیک جن روایتوں کی بنا پر نمازِ وسطیٰ کے لیے اوقاتِ پنجگانہ میں کسی ایسی نماز کی تحدید کی جاتی ہے جو تمام نمازوں کے درمیان میں واقع ہو۔ یہ تخیل ہی غلط ہے کیونکہ وسطیٰ کے یہ معنی ہی نہیں ہیں بلکہ شریعت کی اصطلاح میں نمازِ وسطیٰ وہ ہے جو خضوح و خشوع سے ادا کی جائے۔ جو نمازی کو فحش و منکرات سے روکے اور بندے کو خدا کی بارگاہ میں مقرب بنا سکے۔
…٭٭٭…
خطباتِ آزاد
مولانا ابوالکلام آزاد
یہ کتاب مولانا ابوالکلام آزاد کی مشہور تقریروں کا مجموعہ ہے جو نہ صرف ایک لغوی شاہکار ہے بلکہ اس میں قدیم و جدید موضوعات سے بحث کی گئی ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مالک رام جیسے قلم کار نے اس کا مقدمہ لکھا اور مولانا آزاد کی خطابت نے اس میں استعمال ہونے والی لغوی اصطلاحات کے بارے میں مفصل مضمون باندھا ہے۔
مولانا آزاد کے یہ مشہور خطبات آگرہ، کلکتہ، لاہور، دہلی، کانپور، پٹنہ، رام گڑھ اور لکھنو میں ۱۹۱۴ء سے ۱۹۴۸ء کے دوران دیے گئے تھے۔ ان خطبات کو اتحادِ اسلامی، مجلسِ خلافت، جمعیت علمائے ہند، انڈین نیشنل کانفرنس، جمعیت اہلِ حدیث اور آل انڈیا کانفرنس کے مواقع پر سنایا گیا۔
’’خطباتِ آزاد‘‘ مولانا کے فن کی بھرپور عکاسی کرتی ہے جوکہ بیک وقت ایک تاریخ، ایک دعوت اور ایک تحریک کا درجہ رکھتی ہے۔ مولانا آزاد نے جو بھی اور جس انداز میں بھی کلام کیا اسے دعوتی اور اصلاحی انداز فکر کی معراج سے موسوم سے موسوم کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے ’’خظبات آزاد‘‘ کا ایک ایک لفظ قلب و نظر کی طہارت کا وسیلہ بنتا ہے اور راہ ہدایت میں چراغ بن کر قدم قدم پر روشنی بکھیرتا ہے۔ یہ کتاب علمائے کرام، ذاکرین اور طلبہ کے لیے یکساں مفید ہے۔ …٭٭٭…
ولادتِ نبویؐ
مولانا ابوالکلام آزاد
یہ عظیم کتاب جو رحمۃ للعالمین حضرت محمدؐ کی ولادتِ باسعادت کے موضوع پر لکھی گئی ہے اِسے مولانا ابوالکلام آزادنے اپنے مخصوص انداز میں لکھا ہے۔ حضورؐ کی ولادتِ باسعادت کی یاد میں جتنی گھڑیاں بھی کٹ جائیں، اس عشق میں جتنے بھی آنسو بہہ جائیں، اس محبت میں جتنی بھی آہیں نکل جائیں روحِ انسانیت کا حاصل ہیں، رُوح کی سعادت اور دل کی طہارت میں ہر وہ شخص جو پیغمبرِ اسلام حضرت محمدؐ کی محبت کا قدر دان ہے اور آپؐ کی محبتِ حقیقی سے آشنا ہونا چاہتا ہو اس کے لیے یہ کتاب ایک انمول تحفہ ہی نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بھی ہے۔
ایں سعادت بزورِ بازونیست
…٭٭٭…
مقامِ دعوت
مولانا ابوالکلام آزاد
یہ کتاب دراصل مولانا آزاد کی فکری اور تجزیاتی تحریروں کا مجموعہ ہے جس میں مولانا نے تجارت کے اُصولوں کے بارے میں کھل کر اظہار کیا ہے۔ مولانا نے تجارت کے اسلامی اور رُوحانی پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے اس نکتہ کی وضاحت کی ہے کہ دین کی دعوت دینا بھی تجارت کے زمرے میں آتا ہے جو تجارت کے اُصولوں پر پیروی کرتے ہوئے دعوت کا کام کرتا ہے تو وہ کامیاب تاجر کہلاتا ہے۔ گویا اس کتاب میں مولانا نے تجارت کے رُوحانی فلسفہ کو اُجاگر کیا ہے۔ مولانا نے مختلف ابواب میں خود کو دعوت اور تبلیغ کرنے والا ایک تاجر کہا ہے یہ کتاب مولانا آزاد کی مختصر مگر جامع تحریروں پر مشتمل گرانقدر خزینہ ہے۔
…٭٭٭…
ارکانِ اسلام
مولانا ابوالکلام آزاد مرتب:۔ میاں مختار احمد کھٹانہ
مولانا کی مختلف تحریروں سے توحید، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ سے متعلق مواد یکجا کردیا گیا ہے۔ ارکانِ اسلام کی حقیقت جاننے کے لیے یہ کتاب نہایت موزوں ہے۔ مولانا کی بدیع الاسلوب تحریریں اور ایمان افروز تقریریں اس کتاب کا جوہر ہیں۔
اس کتاب میں عقیدہ توحید کا ذکر ایک سو سے زائد صفحات پر محیط ہے جس میں اس مسئلے کے علمی، عملی، عقلی اور فلسفیانہ ہر پہلو پر سیرحاصل اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت کو مفصل انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔
’’ارکانِ اسلام‘‘ مولانا آزاد کی ایک ایسی آسان اور جامع تالیف ہے جس میں عقیدہ توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ اُردو پڑھنے والوں کی تفہیم و دانش میں ان ارکانِ اسلام کی حقیقت راسخ ہوجائے۔ یہ کتاب راہ سے بھٹکے ہوئے مسلمانوں کو صراطِ مستقیم پرچلنے اور ارکانِ اسلام پر عمل کی دعوت دیتی ہے، اہم بات یہ ہے کہ مولانا آزاد نے دین اور عقل کے اشتراک سے ان اسلامی عقائد میں عمل کی ایسی صورت دکھائی ہے جو راستی کا حقیقی رُخ متعین کردیتی ہے اور دُنیا و اُخروی زندگی کی حقیقتوں کو آشکار کرتی چلی جاتی ہے اور پھر دُنیاوی زندگی کو ایسا عمل بنا دیتی ہے جس سے انسان اُخروی انعامات کے حصول کا وسیلہ پالیتا ہے۔
’’ارکانِ اسلام‘‘ پر عمل پیرا ہونے کے لیے یہ ایک بہترین کتاب ہے جس سے تمام مسلمان مستفید ہوسکتے ہیں۔ نوجوان نسل کی ارکانِ اسلام سے مکمل آگاہی کے لیے یہ ایک نادر تحفہ ہے۔
…٭٭٭…
خطبات بمبئی
مولانا منظور احمد نعمانی۔ ترتیب و تدین: عابدہ خاتون یہ کتاب حضرت مولانا منظور احمد نعمانی کی ان تقاریر کا مجموعہ ہے جو بمبئی کے قصبے گہوگاری کے نوجوانوں کے زیر اہتمام 2محرم 1360ھ تا محرم 1360تک مسلسل بمبئی میں ہوئی تھی ۔
کتاب خطبات بمبئی اگرچہمولانا منظور احمد نعمای کے آٹھ خطبوں ( تقاریر) پر مشتمل ہے لیکن مولانا نے دین اسلام کے تمام اہم امور پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان خطبات میں مولانا نے پانچ ارکان اسلام پر سیر حاصل بحث کی ہے آٹھویں خطبے میں مولانا (مرحوم) نے حضرت سید عمر فاروق ؓ کی خلافت سے لے کر شہادت امام حسین ؓ تک کے واقعات کو مختصر مگر نہایت جامع اور مانع انداز میں سمیٹا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مولانا مرحوم کی تقاریر کے اس بیش بہا خزانے کو پڑھا جائے اور ساتھ ساتھ ان تعلیمات کو عام کیا جائے جو کتاب میں مذکور ہیں ۔
…٭٭٭… فضائل درود شریف
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ
یہ کتاب قطب الاقطاب امام ربانی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ذکریا کاندھلوی مہاجر مدنی قدس سرہ ( متوفی 1402ھ) کی مرتب کردہ ہے جس میں درود شریف کے فضائل و آداب و مسائل اور روضہ اقدس ؐ پر حاضری اور سلام کے طریقوں کے ساتھ ساتھ درود مبارک کے بارے میں کم و بیش 50قصے رقم ہیں۔ کتاب ہذا درود مبارکہ سے متعلق ایک دینی اثاثہ ہے اسے پڑھنے اور سمجھنے کا اجرو ثواب بھی ہے اس کتاب کو پانچ تفصیلی ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ باب اول میں صفحہ 5تا 54تک درود شریف کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ باب دوم میں صفحہ 55تا 118 تک خاص خاص درود شریف اور ان کے فضائل کا ذکر ملتا ہے۔ تیسرے باب میں صفحہ 119تا 132تک ان احادیث مبارکہ کا ذکر ہے جن میں نبی کریم ؐ پر درود نہ پڑھنے سے متعلق وعیدیں وارد ہوئی ہیں چوتھا باب صفحہ 133 سے 149تک محیط ہے جس میں درود شریف سے متعلق متفرقہ فوائد مذکور ہیں صفحہ 150سے 210تک تفصیلاً درود مبارکہ سے متعلق حکایات درج ہیں۔ یہ کتاب درود شریف سے متعلق ایک اہم تصنیف ہے جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو کرنا چاہیے درود شریف کی اہمیت و افادیت پر یہ کتاب کسی خزینے سے کم نہیں۔
…٭٭٭…
ہزارہ گزیٹر ایچ ڈی واٹسن۔ مترجم: پروفیسر افتخار احمد
یہ کتاب بظاہر گزیٹر کے نام سے موسوم ہے لیکن درحقیقت اسے خطۂ ہزارہ کا انگریزی سو سالہ دور کا تاریخی، عمرانی، سماجی، سیاسی تہذیبی ، اور اخلاقی حقائق و معارف کا انسائیکلوپیڈیا کہنا قرین انصاف ہے ۔ ۳ سو سے زائد صفحات کے ’’ہزارہ گزیٹر‘‘ میں سرزمین ہزارہ کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں جو ذکر ہونے سے رہ گئی ہو۔گویا معلومات کا ایک بیش قیمت خزانہ ہے جو برطانوی مولف ایچ ڈی واٹسن لٹا رہے ہیں۔ یہ گزیٹر پہلی بار انگریزی راج کے عروج 1884ء میں منظر عام پر آیا جبکہ دوسری مرتبہ مسٹر واٹسن نے ترمیم و اضافہ کے بعد 1902میں شائع کیا تھا پروفیسر افتخار احمد کا ترجمہ دوسرے ایڈیشن کا پہلا اردو ترجمہ ہے۔ ترجمہ کے فضائل و محاسن اپنی مثال آپ۔ کسی مقام پر بھی قاری کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ ترجمہ شدہ کتاب کامطالعہ کر رہا ہے ۔ مترجم موصوف نے ترجمہ نہایت شستہ، رواں اور سلیس اسلوب میں کیا ہے اور واٹسن کی معروضات سے اختلاف نہیں کیا بلکہ من و عن سب کچھ پیش کر دیا ہے تاکہ محققین خود تحقیق کرکے حقیقت حال دریافت کریں۔ اس میں چنداں شک نہیں کہ ہزارہ گزیٹر ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایچ ڈی واٹسن نے اہل ہزارہ کی عادات، خصائل ، رحجانات اور رویوں کا مشاہدہ بڑی باریک بینی سے کیا ہے اور مختلف قوموں اور قبیلوں کی اجتماعی نفسیات اور نسلوں کے اصل پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ مثلاً سادات ہزارہ کے بارے میں واٹسن لکھتا ہے ’’ وہ عموماً سست ، فضول خرچ اور خراب کاشتکار ہیں، کام کاج کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں، اپنے مزارعین پر حکم چلاتے ہیں، عام طور پر کاہل ہوتے ہیں اور بے مقصد زندگی گزارتے ہیں لیکن ان کا حسن سلوک عمدہ ہے ‘‘ کشمیر اور ہزارہ کے مشہور ڈھنڈ قبیلہ کے بارے میں یوں رقمطراز ہے ’’ ڈھونڈوں کے متعلق عام خیال یہی ہے کہ یہ ہندوؤں سے مسلمان ہوئے کرڑالوں کی طرح وہ بھی پہلے گکھڑوں کے ملازم تھے ۔ کتاب اپنی اہمیت کے پیش نظر ہر لائبریری کی ضرورت ہے۔کتاب میں ۵۰ سے زائد تاریخی تصاویر شامل ہیں جو بلیک اینڈ وائٹ ہونے کے باوجود واضح ہیں ۔
…٭٭٭…
تاریخ ہزارہ
ڈاکٹر شیر بہادر خان پنی
ڈاکٹر شیر بہادر خان پنی کی یہ تاریخی کاوش ہمہ جہت خوبیوں کا مرقع ہے۔ اس میں ادبی لفاظی کا دور دور تک نشان نہیں ۔ سیدھے سادھے خشک انداز میں تاریخ مرتب کی گئی ہے ۔ تاریخ ہزارہ کے استناد کے لیے ڈاکٹر صاحب موصوف کا نام ہی کافی ہے لیکن جن قلمی مخطوطات نادر تاریخی کتب نایاب انگریزی و فارسی مآخذ کی مدد سے یہ تاریخ ترتیب دی گئی ہے ان کی اہمیت مسلم ہے۔ یہ نہ صرف ہزارہ کی سیاسی و عمرانی تاریخ ہے بلکہ قوموں ، نسلوں اور قبیلوں کے احوال کے ساتھ ساتھ سر زمین ہزارہ کے سماجی ، تہذیبی و تمدنی زوال و ارتقاء کا اجمالی خاکہ بھی پیش کرتی ہے۔ برصغیر میں ہزارہ پنجاب اور کشمیر کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی ’’ سکھا شاہی‘‘ کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوگی ۔ مورخ ہزارہ نے نہایت مستند مآخذ کی مدد سے سکھا شاہی دور پر تفصیلی تحقیق کی ہے۔ کتاب 14ابواب پر مشتمل 26مستند مآخذ کی حامل ہے اور سر زمین ہزارہ کے 22تاریخی قبائل سرداروں اور خوانین کے مصوری خاکے بھی شامل اشاعت ہیں۔ ریسرچ سکالرز کے لیے یہ ایک قیمتی اور نادر تصنیف کی حیثیت رکھتی ہے۔
…٭٭٭…

Copyright 2016 by Maktaba Jamal. All rights reserved.